تری چھون کی خفی روشنی سے جل جاتا

Vikram (b. 1990)

تری چھون کی خفی روشنی سے جل جاتا

بدن چراغ تری روشنی سے جل جاتا

اسیر ضبط یہ دل آنسوؤں کا پیاسا تھا

ہنسی سے آتی ہوئی روشنی سے جل جاتا

شب فراق اندھیروں میں جلنے والا میں

شب وصال جلی روشنی سے جل جاتا

وہ مثل رات بجھا دیتی شمس جان و دل

میں مثل چاند بجھی روشنی سے جل جاتا

یہ تو میں ہوں جو تری روشنی میں بھیگتا ہوں

اگر تو ہوتا اسی روشنی سے جل جاتا