میں کب سے در بہ در ہوں مجھ کو در دکھا

Parul Singh Noor (b. 1989)

میں کب سے در بہ در ہوں مجھ کو در دکھا

بہت ہوا تو آخر سفر دکھا

سنا ہے چوم لو تو زخم بھرتے ہیں

ہے دل پہ زخم میرے چوم کر دکھا

جسے لحاظ کہہ کے باندھتا ہے تو

مجھے تو اس نظر میں محض ڈر دکھا

یوں دور دور سے تسلی تو نہ دے

گلے لگا لے باہوں کا اثر دکھا

بہکنا میرا تیرے ہاتھ میں ہے اب

جو مے نہ ہو نگاہ کا ہنر دکھا