رقصاں یہ کائنات ہے چل رقص کرتے ہیں
Vikram (b. 1990)رقصاں یہ کائنات ہے چل رقص کرتے ہیں
ہر ایک شے نشاط ہے چل رقص کرتے ہیں
ہم سارے لوگ ناچتے زنداں میں قید ہیں
سو رقص ہی نجات ہے چل رقص کرتے ہیں
ہوتے ہی صبح دار پہ جائیں گے ہم سبھی
لیکن ابھی تو رات ہے چل رقص کرتے ہیں
پھر سے وہی ہے دشت وہی پیاس اور ہم
پھر سے وہی فرات ہے چل رقص کرتے ہیں
گرداب بحر عشق بہت دور ہے تو کیا
غم کا بگولا ساتھ ہے چل رقص کرتے ہیں
دھک دھک کی دھن پہ رقص کناں ہے ابھی بھی دل
یہ کم کیا التفات ہے چل رقص کرتے ہے