کوئی غم نہ تھا مگر اے پری زاد روئے ہم

Vikram (b. 1990)

کوئی غم نہ تھا مگر اے پری زاد روئے ہم

اک رسم بھر نبھائی ترے بعد روئے ہم

یہ سچ بھی ٹھیک ہے پہ تصور کمال تھا

سو وصل میں بھی ہجر کیا یاد روئے ہم

ہم کو مخالفت کی لگی لت کچھ اس قدر

جب بھی کہا کسی نے رہو شاد روئے ہم

ہم کو ہنر ملا تو نمائش بھی ہم نے کی

آتے ہی اس زمیں پہ خدا زاد روئے ہم

کار ثواب دین میں لازم تھا ہم پہ سو

کر دی ستم گران کی امداد روئے ہم

اتنی اداس رات تھی لالچ میں پڑ گئے

بندھن حیا کے توڑ کے آزاد روئے ہم