محبت کی گلی سے ہم جہاں ہو کر نکل آئے

Chitransh Khare (b. 1989)

محبت کی گلی سے ہم جہاں ہو کر نکل آئے

ہمارے حال پر کوئی بھی ہوتا جی نہیں پاتا

یہ سرکاری محل بھی کس قدر کچے نکلتے ہے

ذرا بارش ہوئی بنیاد کے پتھر نکل آئے

سفارش کے بنا جب بھی چلے ہم حسرتیں لے کر

ہوئی جب شام تو مایوس اپنے گھر نکل آئے

ذرا سی دیر ہم نے نرم لہجہ کیا کیا اپنا

ہمارے دشمنوں کے کیسے کیسے پر نکل آئے