پیاسے کو پانی برسانا پڑتا ہے
Vikram (b. 1990)پیاسے کو پانی برسانا پڑتا ہے
ساگر کو بادل بن جانا پڑتا ہے
جن کے پاس نہ ہو مرنے کی خاطر کچھ
ان کو جیتے جی مر جانا پڑتا ہے
دنیا میں در یوں ہی نہیں کھلتے پیارے
دیواروں سے سر ٹکرانا پڑتا ہے
ندی سے جتنا چاہے لڑ لے پتھر
مٹی بن اس کو بہہ جانا پڑتا ہے
ایک جنوں کا پیڑ سینچنے کی خاطر
کچھ خوابوں کا خون بہانا پڑتا ہے
بنیادیں مضبوط یوں بھی ہو جاتی ہیں
ان کو گھر کا بوجھ اٹھانا پڑتا ہے