ظلمات کا سفر ہے چلو بولتے رہو

Vikram (b. 1990)

ظلمات کا سفر ہے چلو بولتے رہو

کھو جاؤ گے خموش نہ ہو بولتے رہو

اس شہر خامشی میں ہو زندہ ثبوت دو

یہ چپ کی قبر چھوڑو اٹھو بولتے رہو

چپ رہنا کفر اور خموشی حرام ہے

مومن ہو دین عشق کے تو بولتے رہو

اتنی طویل رات ہمیں کاٹنی ہے ساتھ

بے انت داستان کہو بولتے رہو

اپنا حسین خواب سناتے رہو مجھے

یہ خواب ٹوٹنے ہی نہ دو بولتے رہو

یہ ساری کائنات خموشی کا رقص ہے

آواز میں ثبات ہے سو بولتے رہو

جتنا سنو گے اتنا سنائیں گے تم کو لوگ

دنیا کی ایک بھی نہ سنو بولتے رہو

پھر سے یہ کائنات بناؤ گے اے خدا

تو کن سے بن نہ پائے گی گو بولتے رہو

سی دی گئی ہے آنکھ زباں چاک ذہن کند

اور حکم ہے کہ چپ نہ رہو بولتے رہو