لہر پہ بنتے بگڑتے حباب کی صورت
Vikram (b. 1990)لہر پہ بنتے بگڑتے حباب کی صورت
ہمیں جو نیند بھی آئی تو خواب کی صورت
یہیں پہ ایک مصور نے جان دے دی تھی
بنی نہ ریت پہ جب اس سے آب کی صورت
یہ ہاتھ لکھنے لگے عشق بے خیالی میں
بغور تجھ کو پڑھا جب کتاب کی صورت
سجائے پھرتے ہیں تمغے کی طرح سینہ پہ
یہ عشق جیتا ہے ہم نے خطاب کی صورت
یہ جن رگوں میں جنوں دوڑتا ہے خوں بن کر
انہیں نے باندھا ہے دل کو طناب کی صورت
ندی میں ڈوب رہے تشنہ دید نے دیکھا
ندی کے بیچ جزیرہ سراب کی صورت