Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. آواز میں آواز ملاتے ہی رہے ہمروتی ہی رہی روح سو گاتے ہی رہے ہمPirzada Qasim
  2. اب حرف تمنا کو سماعت نہ ملے گیبیچوگے اگر خواب تو قیمت نہ ملے گیPirzada Qasim
  3. اٹھ رہا ہے آشیانوں سے دھواں دیکھے گا کونہے مگر تعبیر خواب رائیگاں دیکھے گا کونPirzada Qasim
  4. اداکاری میں بھی سو کرب کے پہلو نکل آئےکہ فنکارانہ روتے تھے مگر آنسو نکل آئےPirzada Qasim
  5. اس کی خواہش ہے یہی حرف وضاحت کے بغیراب کوئی خواب بھی دیکھے نہ اجازت کے بغیرPirzada Qasim
  6. اک سزا اور اسیروں کو سنا دی جائےیعنی اب جرم اسیری کی سزا دی جائےPirzada Qasim
  7. ایک سے سلسلے ہیں سب ہجر کی رت بتا گئیپھر وہی صبح آئے گی پھر وہی شام آ گئیPirzada Qasim
  8. بے دلی سے ہنسنے کو خوش دلی نہ سمجھا جائےغم سے جلتے چہروں کو روشنی نہ سمجھا جائےPirzada Qasim
  9. جس طرف نظر کیجے وحشتوں کا ساماں ہےزندگی ہی کیا اب تو خواب تک پریشاں ہےPirzada Qasim
  10. جیسے یاد انبساط و غم شکیبائی کے بعددیر تک روتے رہے ہم بزم آرائی کے بعدPirzada Qasim
  11. چاند بھی بجھا ڈالا دل دکھانے والوں نےکچھ اٹھا نہیں رکھا دل دکھانے والوں نےPirzada Qasim
  12. چراغ ہوں کب سے جل رہا ہوں مجھے دعاؤں میں یاد رکھیےجو بجھ گیا تو سحر نما ہوں مجھے دعاؤں میں یاد رکھیےPirzada Qasim
  13. حجرۂ ذات سے باہر تو نکل کر دیکھوتم کسی دوسرے پیکر میں بھی ڈھل کر دیکھوPirzada Qasim
  14. خرمن جاں کے لیے خود ہی شرر ہو گئے ہمخاکساری جو بڑھی خاک بسر ہو گئے ہمPirzada Qasim
  15. خود ہی روٹھے ہو تو پھر اس کا مداوا کیوں ہوہم نہ کہتے تھے کہ ہاں رنجش بے جا کیوں ہوPirzada Qasim
  16. خون سے جب جلا دیا ایک دیا بجھا ہواپھر مجھے دے دیا گیا ایک دیا بجھا ہواPirzada Qasim
  17. درد ہے کہ نغمہ ہے فیصلہ کیا جائےیعنی دل کی دھڑکن پر غور کر لیا جائےPirzada Qasim
  18. دل اگر کچھ مانگ لینے کی اجازت مانگتایہ محبت زاد تجدید محبت مانگتاPirzada Qasim
  19. روح گر نوحہ کناں ہو تو غزل ہوتی ہےدل کو احساس زیاں ہو تو غزل ہوتی ہےPirzada Qasim
  20. زخم دبے تو پھر نیا تیر چلا دیا کرودوستو اپنا لطف خاص یاد دلا دیا کروPirzada Qasim
  21. زندگی کو ایک خواب رائیگاں سمجھا تھا میںبے کراں تعبیر ہوگی یہ کہاں سمجھا تھا میںPirzada Qasim
  22. زندگی کے دامن میں رنگ و نور و نکہت کیاخواب ہی تو دیکھا ہے خواب کی حقیقت کیاPirzada Qasim
  23. زندگی نے جھیلے ہیں سب عذاب دنیا کےبس رہے ہیں آنکھوں میں پھر بھی خواب دنیا کےPirzada Qasim
  24. سانحہ نہیں ٹلتا سانحے پہ رونے سےحبس جاں نہ کم ہوگا بے لباس ہونے سےPirzada Qasim
  25. شکست دل میں بھی اک زندگی نظر آئیدیا بجھا تو ہمیں روشنی نظر آئیPirzada Qasim
  26. عجب ہیں ہم یہ کس کی سعئ لا حاصل پہ روتے ہیںابھی زندہ ہیں اور ناکامیٔ قاتل پہ روتے ہیںPirzada Qasim
  27. عشق نے ہم کو جنوں آثار ایسا کر دیابستۂ ساحل بھی رکھا اور دریا کر دیاPirzada Qasim
  28. عیاں ہم پر نہ ہونے کی خوشی ہونے لگی ہےدیے میں اک نئی سی روشنی ہونے لگی ہےPirzada Qasim
  29. غم سے بہل رہے ہیں آپ آپ بہت عجیب ہیںدرد میں ڈھل رہے ہیں آپ آپ بہت عجیب ہیںPirzada Qasim
  30. کار خلوص یار کا مجھ کو یقین آ گیااتنا شدید وار تھا مجھ کو یقین آ گیاPirzada Qasim
  31. کبھی ہوا تو کبھی خاک رہ گزر ہونامرے نصیب میں لکھا ہے در بہ در ہوناPirzada Qasim
  32. کدورتوں کے درمیاں عداوتوں کے درمیاںتمام دوست اجنبی ہیں دوستوں کے درمیاںPirzada Qasim
  33. کون گماں یقیں بنا کون سا گھاؤ بھر گیاجیسے سبھی گزر گئے جونؔ بھی کل گزر گیاPirzada Qasim
  34. کوئی ہے جو شکست ضبط غم ہونے نہیں دیتامیں رونا چاہتا ہوں اور وہ رونے نہیں دیتاPirzada Qasim
  35. گھر کی جب یاد صدا دے تو پلٹ کر آ جائیںکاش ہم اپنی ہی خواہش کو میسر آ جائیںPirzada Qasim
  36. لڑکھڑاتے ہوئے بھی اور سنبھلتے ہوئے بھیاس کے در پر ہی گئے خواب میں چلتے ہوئے بھیPirzada Qasim
  37. لمحہ لمحہ مرا ہر اک سے سوا جاگتا ہےمیں الگ جاگتا ہوں درد جدا جاگتا ہےPirzada Qasim
  38. مرا جہاں ابھی میرا جہاں بنا ہی نہیںزمیں بنی ہی نہیں آسماں بنا ہی نہیںPirzada Qasim
  39. میان کار دنیا ہم سے دل ناشاد کیا کرتےہمیں وہ یاد کب آیا اسے ہم یاد کیا کرتےPirzada Qasim
  40. میان کار فن لفظوں کی قسمت جاگ اٹھتی ہےبہت مسرور رہتا ہوں بہت چہرہ سجاتا ہوںPirzada Qasim
  41. میں کب سے اپنی تلاش میں ہوں ملا نہیں ہوںسوال یہ ہے کہ میں کہیں ہوں بھی یا نہیں ہوںPirzada Qasim
  42. نظر میں نت نئی حیرانیاں لیے پھریےسروں پہ روز نیا آسماں لیے پھریےPirzada Qasim
  43. نہ پوچھئے کہ کہا کیا ہے ان کہی کیا ہےعذاب جھیل رہا ہوں سخنوری کیا ہےPirzada Qasim
  44. وہ ایک خواب جو دیکھا گیا تھا عجلت میںاسی کا کرب سمیٹا ہے آج فرصت میںPirzada Qasim
  45. ہماری طرح کوئی دوسرا ہوا بھی نہیںوہ درد دل میں رکھا ہے جو لا دوا بھی نہیںPirzada Qasim
  46. ہم سے نہ پوچھ جائے گی ہجر کی رہ گزر کہاںشام ہوئی تو تھی کہیں صبح ہوئی مگر کہاںPirzada Qasim
  47. ہے جبر وقت کا قصہ عجب سنائے کونمیں یاد اس کو کروں اور یاد آئے کونPirzada Qasim
  48. یاد کیا دست ہنر ہے کہ سنورتا گیا میںاس کو سوچا تو اسے یاد ہی کرتا گیا میںPirzada Qasim
  49. یہ بھی کیا کم ہے کہ ہم بیتاب حالت میں رہےبن نہ پائے کچھ بھی لیکن دست قدرت میں رہےPirzada Qasim
  50. یہ حادثہ مجھے حیران کر گیا سر شامجو زخم صبح ملا تھا وہ بھر گیا سر شامPirzada Qasim