Poetry
- آواز میں آواز ملاتے ہی رہے ہمروتی ہی رہی روح سو گاتے ہی رہے ہمPirzada Qasim
- اب حرف تمنا کو سماعت نہ ملے گیبیچوگے اگر خواب تو قیمت نہ ملے گیPirzada Qasim
- اٹھ رہا ہے آشیانوں سے دھواں دیکھے گا کونہے مگر تعبیر خواب رائیگاں دیکھے گا کونPirzada Qasim
- اداکاری میں بھی سو کرب کے پہلو نکل آئےکہ فنکارانہ روتے تھے مگر آنسو نکل آئےPirzada Qasim
- اس کی خواہش ہے یہی حرف وضاحت کے بغیراب کوئی خواب بھی دیکھے نہ اجازت کے بغیرPirzada Qasim
- اک سزا اور اسیروں کو سنا دی جائےیعنی اب جرم اسیری کی سزا دی جائےPirzada Qasim
- ایک سے سلسلے ہیں سب ہجر کی رت بتا گئیپھر وہی صبح آئے گی پھر وہی شام آ گئیPirzada Qasim
- بے دلی سے ہنسنے کو خوش دلی نہ سمجھا جائےغم سے جلتے چہروں کو روشنی نہ سمجھا جائےPirzada Qasim
- جس طرف نظر کیجے وحشتوں کا ساماں ہےزندگی ہی کیا اب تو خواب تک پریشاں ہےPirzada Qasim
- جیسے یاد انبساط و غم شکیبائی کے بعددیر تک روتے رہے ہم بزم آرائی کے بعدPirzada Qasim
- چاند بھی بجھا ڈالا دل دکھانے والوں نےکچھ اٹھا نہیں رکھا دل دکھانے والوں نےPirzada Qasim
- چراغ ہوں کب سے جل رہا ہوں مجھے دعاؤں میں یاد رکھیےجو بجھ گیا تو سحر نما ہوں مجھے دعاؤں میں یاد رکھیےPirzada Qasim
- حجرۂ ذات سے باہر تو نکل کر دیکھوتم کسی دوسرے پیکر میں بھی ڈھل کر دیکھوPirzada Qasim
- خرمن جاں کے لیے خود ہی شرر ہو گئے ہمخاکساری جو بڑھی خاک بسر ہو گئے ہمPirzada Qasim
- خود ہی روٹھے ہو تو پھر اس کا مداوا کیوں ہوہم نہ کہتے تھے کہ ہاں رنجش بے جا کیوں ہوPirzada Qasim
- خون سے جب جلا دیا ایک دیا بجھا ہواپھر مجھے دے دیا گیا ایک دیا بجھا ہواPirzada Qasim
- درد ہے کہ نغمہ ہے فیصلہ کیا جائےیعنی دل کی دھڑکن پر غور کر لیا جائےPirzada Qasim
- دل اگر کچھ مانگ لینے کی اجازت مانگتایہ محبت زاد تجدید محبت مانگتاPirzada Qasim
- روح گر نوحہ کناں ہو تو غزل ہوتی ہےدل کو احساس زیاں ہو تو غزل ہوتی ہےPirzada Qasim
- زخم دبے تو پھر نیا تیر چلا دیا کرودوستو اپنا لطف خاص یاد دلا دیا کروPirzada Qasim
- زندگی کو ایک خواب رائیگاں سمجھا تھا میںبے کراں تعبیر ہوگی یہ کہاں سمجھا تھا میںPirzada Qasim
- زندگی کے دامن میں رنگ و نور و نکہت کیاخواب ہی تو دیکھا ہے خواب کی حقیقت کیاPirzada Qasim
- زندگی نے جھیلے ہیں سب عذاب دنیا کےبس رہے ہیں آنکھوں میں پھر بھی خواب دنیا کےPirzada Qasim
- سانحہ نہیں ٹلتا سانحے پہ رونے سےحبس جاں نہ کم ہوگا بے لباس ہونے سےPirzada Qasim
- شکست دل میں بھی اک زندگی نظر آئیدیا بجھا تو ہمیں روشنی نظر آئیPirzada Qasim
- عجب ہیں ہم یہ کس کی سعئ لا حاصل پہ روتے ہیںابھی زندہ ہیں اور ناکامیٔ قاتل پہ روتے ہیںPirzada Qasim
- عشق نے ہم کو جنوں آثار ایسا کر دیابستۂ ساحل بھی رکھا اور دریا کر دیاPirzada Qasim
- عیاں ہم پر نہ ہونے کی خوشی ہونے لگی ہےدیے میں اک نئی سی روشنی ہونے لگی ہےPirzada Qasim
- غم سے بہل رہے ہیں آپ آپ بہت عجیب ہیںدرد میں ڈھل رہے ہیں آپ آپ بہت عجیب ہیںPirzada Qasim
- کار خلوص یار کا مجھ کو یقین آ گیااتنا شدید وار تھا مجھ کو یقین آ گیاPirzada Qasim
- کبھی ہوا تو کبھی خاک رہ گزر ہونامرے نصیب میں لکھا ہے در بہ در ہوناPirzada Qasim
- کدورتوں کے درمیاں عداوتوں کے درمیاںتمام دوست اجنبی ہیں دوستوں کے درمیاںPirzada Qasim
- کون گماں یقیں بنا کون سا گھاؤ بھر گیاجیسے سبھی گزر گئے جونؔ بھی کل گزر گیاPirzada Qasim
- کوئی ہے جو شکست ضبط غم ہونے نہیں دیتامیں رونا چاہتا ہوں اور وہ رونے نہیں دیتاPirzada Qasim
- گھر کی جب یاد صدا دے تو پلٹ کر آ جائیںکاش ہم اپنی ہی خواہش کو میسر آ جائیںPirzada Qasim
- لڑکھڑاتے ہوئے بھی اور سنبھلتے ہوئے بھیاس کے در پر ہی گئے خواب میں چلتے ہوئے بھیPirzada Qasim
- لمحہ لمحہ مرا ہر اک سے سوا جاگتا ہےمیں الگ جاگتا ہوں درد جدا جاگتا ہےPirzada Qasim
- مرا جہاں ابھی میرا جہاں بنا ہی نہیںزمیں بنی ہی نہیں آسماں بنا ہی نہیںPirzada Qasim
- میان کار دنیا ہم سے دل ناشاد کیا کرتےہمیں وہ یاد کب آیا اسے ہم یاد کیا کرتےPirzada Qasim
- میان کار فن لفظوں کی قسمت جاگ اٹھتی ہےبہت مسرور رہتا ہوں بہت چہرہ سجاتا ہوںPirzada Qasim
- میں کب سے اپنی تلاش میں ہوں ملا نہیں ہوںسوال یہ ہے کہ میں کہیں ہوں بھی یا نہیں ہوںPirzada Qasim
- نظر میں نت نئی حیرانیاں لیے پھریےسروں پہ روز نیا آسماں لیے پھریےPirzada Qasim
- نہ پوچھئے کہ کہا کیا ہے ان کہی کیا ہےعذاب جھیل رہا ہوں سخنوری کیا ہےPirzada Qasim
- وہ ایک خواب جو دیکھا گیا تھا عجلت میںاسی کا کرب سمیٹا ہے آج فرصت میںPirzada Qasim
- ہماری طرح کوئی دوسرا ہوا بھی نہیںوہ درد دل میں رکھا ہے جو لا دوا بھی نہیںPirzada Qasim
- ہم سے نہ پوچھ جائے گی ہجر کی رہ گزر کہاںشام ہوئی تو تھی کہیں صبح ہوئی مگر کہاںPirzada Qasim
- ہے جبر وقت کا قصہ عجب سنائے کونمیں یاد اس کو کروں اور یاد آئے کونPirzada Qasim
- یاد کیا دست ہنر ہے کہ سنورتا گیا میںاس کو سوچا تو اسے یاد ہی کرتا گیا میںPirzada Qasim
- یہ بھی کیا کم ہے کہ ہم بیتاب حالت میں رہےبن نہ پائے کچھ بھی لیکن دست قدرت میں رہےPirzada Qasim
- یہ حادثہ مجھے حیران کر گیا سر شامجو زخم صبح ملا تھا وہ بھر گیا سر شامPirzada Qasim