چاند بھی بجھا ڈالا دل دکھانے والوں نے
Pirzada Qasimچاند بھی بجھا ڈالا دل دکھانے والوں نے
کچھ اٹھا نہیں رکھا دل دکھانے والوں نے
ہم نے خستگی پائی دل گرفتگی پائی
خیر ہم سے کیا پایا دل دکھانے والوں نے
خوب وضع داری ہے زخم تازہ سے پہلے
ہم سے حال دل پوچھا دل دکھانے والوں نے
بے قرار ہیں آنکھیں کیسے اب لہو روئیں
خشک کر دیا دریا دل دکھانے والوں نے
سچ کہا سدا دل کو دل سے راہ ہوتی ہے
خوب ہم کو پہچانا دل دکھانے والوں نے
ان کی وجہ شہرت تو تلخ گفتگو ہی تھی
کیوں بدل لیا لہجہ دل دکھانے والوں نے