عجب ہیں ہم یہ کس کی سعئ لا حاصل پہ روتے ہیں

Pirzada Qasim

عجب ہیں ہم یہ کس کی سعئ لا حاصل پہ روتے ہیں

ابھی زندہ ہیں اور ناکامیٔ قاتل پہ روتے ہیں

ہمیں رہ رہ کے طوفاں کی رفاقت یاد آتی ہے

ہیں اب آسودۂ ساحل کھڑے ساحل پہ روتے ہیں

بہت ہم کو رلایا ماضی و امروز نے سو اب

نشاط گریہ ایسا ہے کہ مستقبل پہ روتے ہیں

گروہ عاشقاں تھا شہر گریہ ان کی منزل تھی

یہ رستے بھر بھی روتے آئے اب منزل پہ روتے ہیں

کہاں روتے ہیں ہم آغاز تنسیخ تعلق پر

جو کھینچی جا چکی ہے اس حد فاصل پہ روتے ہیں