کار خلوص یار کا مجھ کو یقین آ گیا

Pirzada Qasim

کار خلوص یار کا مجھ کو یقین آ گیا

اتنا شدید وار تھا مجھ کو یقین آ گیا

بس یوں ہی کچھ گماں سا تھا کوئی پس سخن بھی ہے

درد جو لب کشا ہوا مجھ کو یقین آ گیا

پھر وہ ہوا کا قہقہہ کان میں گونجنے لگا

اور بھی اک دیا بجھا مجھ کو یقین آ گیا

دائرہ وار تھا سفر عشق جنوں صفات کا

ہجر و وصال کچھ نہ تھا مجھ کو یقین آ گیا

اب مرا درد بجھ گیا اب مرا زخم بھر چلا

پھر وہی دوست آئے گا مجھ کو یقین آ گیا