کوئی ہے جو شکست ضبط غم ہونے نہیں دیتا

Pirzada Qasim

کوئی ہے جو شکست ضبط غم ہونے نہیں دیتا

میں رونا چاہتا ہوں اور وہ رونے نہیں دیتا

سر آغاز ہر شب اک نیا غم گھیر لیتا ہے

جو خود بھی جاگتا ہے اور مجھے سونے نہیں دیتا

نئے غم بخشتا ہے دل کو بہلائے بھی جاتا ہے

غرض وہ اعتبار غم کبھی کھونے نہیں دیتا

بہت جی چاہتا ہے خود کو اب رو لیں سر ہستی

کوئی ہے جو یہ رسم غم ادا ہونے نہیں دیتا

عجب اک شعلۂ غم فصل الفت پھونک دیتا ہے

نئی اک فصل پھر بوئیں مگر بونے نہیں دیتا