زخم دبے تو پھر نیا تیر چلا دیا کرو

Pirzada Qasim

زخم دبے تو پھر نیا تیر چلا دیا کرو

دوستو اپنا لطف خاص یاد دلا دیا کرو

ایک علاج دائمی ہے تو برائے تشنگی

پہلے ہی گھونٹ میں اگر زہر ملا دیا کرو

شہر طلب کرے اگر تم سے علاج تیرگی

صاحب اختیار ہو آگ لگا دیا کرو

مقتل غم کی رونقیں ختم نہ ہونے پائیں گی

کوئی تو آ ہی جائے گا روز صدا دیا کرو

جذبۂ خاک پروری اور سکون پائے گا

خاک کرو ہمیں تو پھر خاک اڑا دیا کرو