میان کار فن لفظوں کی قسمت جاگ اٹھتی ہے

Pirzada Qasim

میان کار فن لفظوں کی قسمت جاگ اٹھتی ہے

بہت مسرور رہتا ہوں بہت چہرہ سجاتا ہوں

مگر آئینے میں اک اور صورت جاگ اٹھتی ہے

میں کتنی بار دنیا تج کے جا بیٹھا ہوں گوشے میں

مگر ہر بار دنیا کی ضرورت جاگ اٹھتی ہے

عجب دیکھا کرشمہ لفظ کی بازی گری کا بھی

سخن معدوم ہو جاتا ہے شہرت جاگ اٹھتی ہے

محبت اس طرح تو منقلب ہوتے نہ دیکھی تھی

ذرا بے اعتباری ہو تو نفرت جاگ اٹھتی ہے