آواز میں آواز ملاتے ہی رہے ہم

Pirzada Qasim

آواز میں آواز ملاتے ہی رہے ہم

روتی ہی رہی روح سو گاتے ہی رہے ہم

جل اٹھنے میں جل بجھنے میں اک لمحہ لگا تھا

پھر خواب سر دید اڑاتے ہی رہے ہم

ہر خندۂ بے تاب تھا مقتول ہمارا

ویسے تو ہنسے اور ہنساتے ہی رہے ہم