خرمن جاں کے لیے خود ہی شرر ہو گئے ہم

Pirzada Qasim

خرمن جاں کے لیے خود ہی شرر ہو گئے ہم

خاکساری جو بڑھی خاک بسر ہو گئے ہم

اپنے ہونے کا یقیں آ گیا بجھتے بجھتے

بے کراں شب میں جو امکان سحر ہو گئے ہم

نامرادی میں نشاط غم امکاں تھا عجب

ہم کبھی شاد نہ ہو پاتے مگر ہو گئے ہم

ہم نہیں کچھ بھی مگر معرکۂ عشق کی خیر

جیت مقسوم ہوئی اس کی جدھر ہو گئے ہم

جادۂ عشق ترا حق تو ادا کس سے ہوا

خیر اتنا ہے کہ آغاز سفر ہو گئے ہم

زندگی ایسے گزاری کہ سبک سر نہ ہوئے

یعنی اس دور میں جینے کا ہنر ہو گئے ہم

تیشہ بھی ہم تھے یقیں ہم تھے تو زنداں کیا چیز

یہی ہونا تھا سو دیوار میں در ہو گئے ہم

دست قدرت ہمیں کچھ اور ہے بننا سو بنا

چھوڑ یہ ذکر کہ قطرے سے گہر ہو گئے ہم