جس طرف نظر کیجے وحشتوں کا ساماں ہے

Pirzada Qasim

جس طرف نظر کیجے وحشتوں کا ساماں ہے

زندگی ہی کیا اب تو خواب تک پریشاں ہے

اک ہوائے بیتابی ہم کو لے اڑی ورنہ

بال و پر کے پردے میں ہمت گریزاں ہے

اے ہوائے غم تو نے سب دیے بجھا ڈالے

پھر بھی خلوت جاں میں دور تک چراغاں ہے

دار و گیر وحشت میں اب پناہ کیا ڈھونڈیں

یہ زمین دامن ہے آسماں گریباں ہے

میں ہوں جب تلک باقی یہ مکالمہ ہوگا

اے حقیقت ہستی میرا نام انساں ہے