زندگی نے جھیلے ہیں سب عذاب دنیا کے

Pirzada Qasim

زندگی نے جھیلے ہیں سب عذاب دنیا کے

بس رہے ہیں آنکھوں میں پھر بھی خواب دنیا کے

دل بجھے تو تاریکی دور پھر نہیں ہوتی

لاکھ سر پہ آ پہنچیں آفتاب دنیا کے

دشت بے نیازی ہے اور میں ہوں اب لوگو

اس جگہ نہیں آتے باریاب دنیا کے

زندگی سے گزرا ہوں کتنا بے نیازانہ

ساتھ ساتھ چلتے تھے انقلاب دنیا کے

ہم نے دست دنیا پر پھر بھی کی نہیں بیعت

جانتے تھے ہم تیور ہیں خراب دنیا کے