مرا جہاں ابھی میرا جہاں بنا ہی نہیں
Pirzada Qasimمرا جہاں ابھی میرا جہاں بنا ہی نہیں
زمیں بنی ہی نہیں آسماں بنا ہی نہیں
ہزار سبز سہی رائیگاں سی لگتی ہے
وہ شاخ جس پہ کبھی آشیاں بنا ہی نہیں
کوئی بھی صورت حالات دیر پا نہ ہوئی
جو غم عزیز ہوا جاوداں بنا ہی نہیں
جس انقلاب کی سرخی مرے لہو نے لکھی
وہ انقلاب مری داستاں بنا ہی نہیں
بہت سی اور بھی شرطیں ہیں کارواں کے لیے
ہجوم سے تو کبھی کارواں بنا ہی نہیں