عیاں ہم پر نہ ہونے کی خوشی ہونے لگی ہے
Pirzada Qasimعیاں ہم پر نہ ہونے کی خوشی ہونے لگی ہے
دیے میں اک نئی سی روشنی ہونے لگی ہے
نئی کچھ حسرتیں دل میں بسیرا کر رہی ہیں
بہت آباد اب دل کی گلی ہونے لگی ہے
سو طے پایا مصائب زندگی کے کم نہ ہونگے
مگر کم زندگی سے زندگی ہونے لگی ہے
ادھر تار نفس سے آ ملی ہے رونق زیست
ادھر کم مہلتی میں بھی کمی ہونے لگی ہے
سر آغاز دل کی داستاں میں وہ نہیں تھا
مگر محسوس اب اس کی کمی ہونے لگی ہے
ہماری دوستی کا دم بھریں ایسے کہاں ہیں
زمانے سب سے تیری دوستی ہونے لگی ہے