اس کی خواہش ہے یہی حرف وضاحت کے بغیر

Pirzada Qasim

اس کی خواہش ہے یہی حرف وضاحت کے بغیر

اب کوئی خواب بھی دیکھے نہ اجازت کے بغیر

ہم کو ڈھونڈو تو ہمیں کھونے کی خاطر ڈھونڈو

خواب تعبیر نہیں ہوتے ہیں حسرت کے بغیر

دل کو اک کار مسلسل نے رکھا ہے آباد

ایک لمحہ بھی نہیں گزرا محبت کے بغیر

یوں بھی دشوار ہے آسودۂ صحرا ہونا

اور جب خاک بھی ہو جانا ہو وحشت کے بغیر

وقت سفاک ہے اتنا کبھی سوچا بھی نہ تھا

ہم اسے یاد نہ کر پائیں گے زحمت کے بغیر

ہم ترے قریۂ جاں تاب میں اتنا ٹھہرے

یعنی اک لمحہ گزار آئے ہیں عجلت کے بغیر

اب تو ہم خود سے بھی کم کم ہی ملا کرتے ہیں

کسی خواہش سے الگ اور ضرورت کے بغیر