دل اگر کچھ مانگ لینے کی اجازت مانگتا
Pirzada Qasimدل اگر کچھ مانگ لینے کی اجازت مانگتا
یہ محبت زاد تجدید محبت مانگتا
وقت خود ناپائیداری کے لئے مشہور ہے
ایسے بے توفیق سے میں خاک شہرت مانگتا
میں نے صحرا سے تحیر خیز حیرت مانگ لی
خاک ہو جاتا اگر تہذیب وحشت مانگتا
دل کو خوش آئی نہیں یہ دولت آسودگی
اور کچھ مل جاتی تو یہ کچھ اور زحمت مانگتا
ہیں خداوندان دنیا ہم تہی دستوں سے ہیچ
دل کو حسرت تھی تو ہم جیسوں سے خلعت مانگتا
ہو گیا ہوتا گراں گوشوں سے گر مغلوب میں
کیوں سخن آغاز کرتا کیوں سماعت مانگتا
کیا تعجب تھا کہ اس سوداگری کے دور میں
خواب بھی تعبیر ہو جانے کی قیمت مانگتا