زندگی کو ایک خواب رائیگاں سمجھا تھا میں
Pirzada Qasimزندگی کو ایک خواب رائیگاں سمجھا تھا میں
بے کراں تعبیر ہوگی یہ کہاں سمجھا تھا میں
راہ رو گزرے چلے جاتے تھے راہ زیست پر
اک ہجوم جسم و جاں کو کارواں سمجھا تھا میں
اتنی نزدیکی کہ جیسے چھو رہا ہوں خود کو میں
حرز جاں ہے وہ جسے وہم و گماں سمجھا تھا میں
تھا بہت سفاک تنسیخ تعلق کا فریب
اس کا عالم ہے جسے اپنا جہاں سمجھا تھا میں
بے طلب آسودہ کب ہوتی ہے کشت آرزو
بے گماں دل ہو رہے گا گلستاں سمجھا تھا میں
اک توقع تھی کہ یہ لہجہ بھی سمجھے گا کوئی
چشم خوں افشاں کو انداز بیاں سمجھا تھا میں
ربط باہم تھا فقط لفظ و بیاں کا ارتباط
ہے کوئی رسم وفا بھی درمیاں سمجھا تھا میں
اس قدر مانوس تھا فطرت کے لہجے کا جمال
سو اسے اپنا سخن اپنی زباں سمجھا تھا میں
یہ تو ہیں آئندگاں کی روشنی کے دائرے
ان کو اب تک اپنے قدموں کے نشاں سمجھا تھا میں