درد ہے کہ نغمہ ہے فیصلہ کیا جائے
Pirzada Qasimدرد ہے کہ نغمہ ہے فیصلہ کیا جائے
یعنی دل کی دھڑکن پر غور کر لیا جائے
آپ کتنے سادہ ہیں چاہتے ہیں بس اتنا
ظلم کے اندھیرے کو رات کہہ دیا جائے
آج سب ہیں بے قیمت گریہ بھی تبسم بھی
دل میں ہنس لیا جائے دل میں رو لیا جائے
بے حسی کی دنیا سے دو سوال میرے بھی
کب تلک جیا جائے اور کیوں جیا جائے
اب تو فقر و فاقہ کی آبرو اسی سے ہے
تار تار دامن کو کیوں بھلا سیا جائے