خود ہی روٹھے ہو تو پھر اس کا مداوا کیوں ہو

Pirzada Qasim

خود ہی روٹھے ہو تو پھر اس کا مداوا کیوں ہو

ہم نہ کہتے تھے کہ ہاں رنجش بے جا کیوں ہو

ہر بشر اپنی پریشاں نظری کے با وصف

خود تماشا ہے تو پھر محو تماشا کیوں ہو

دل کے بہلانے کو امید کرم رکھتے ہیں

ورنہ یہ ہم بھی سمجھتے ہیں کہ ایسا کیوں ہو

دشت جو میری تمنا نہ کرے دشت نہیں

خاک جس میں نہ اڑے میری وہ صحرا کیوں ہو

ایک لحظہ بھی جو پاؤں غم ہستی سے فراغ

اک نیا رنج پکارے ہے کہ تنہا کیوں ہو