گھر کی جب یاد صدا دے تو پلٹ کر آ جائیں

Pirzada Qasim

گھر کی جب یاد صدا دے تو پلٹ کر آ جائیں

کاش ہم اپنی ہی خواہش کو میسر آ جائیں

ہے کرامت مرے دل کی ترے ناوک میں نہیں

وار ہو ایک مگر زخم بہتر آ جائیں

گفتگو آج تو دو ٹوک کرے گا سورج

ظل سبحانی شبستان سے باہر آ جائیں

شب کو یلغار تفکر سے جو بچ نکلوں میں

صبح دم تازہ خیالات کے لشکر آ جائیں

اتنی سفاک سماعت بھی غضب ہے کہ جہاں

بات پوری بھی نہ ہو ہاتھوں میں پتھر آ جائیں