ہم سے نہ پوچھ جائے گی ہجر کی رہ گزر کہاں
Pirzada Qasimہم سے نہ پوچھ جائے گی ہجر کی رہ گزر کہاں
شام ہوئی تو تھی کہیں صبح ہوئی مگر کہاں
دانہ و دام سے پرے میری اڑان یاد کر
مجھ کو تلاش کر نہ دیکھ رکھے ہیں بال و پر کہاں
عشق حصار ذات سے دور بہت نکل گیا
ایسے میں جبر وقت بھی ہوتا ہے کارگر کہاں
ولولہ ہائے شوق سب صرف مہاجرت ہوئے
اب سر منزل وفا ڈھونڈ رہے ہو گھر کہاں
چھوڑ کے کاروان شوق منزل غم پہ کر قیام
مثل غبار کارواں پھرتا ہے در بہ در کہاں