یہ بھی کیا کم ہے کہ ہم بیتاب حالت میں رہے

Pirzada Qasim

یہ بھی کیا کم ہے کہ ہم بیتاب حالت میں رہے

بن نہ پائے کچھ بھی لیکن دست قدرت میں رہے

ہم کو آنکھوں میں بسایا وقت نے مانند خواب

اور ہم تعبیر ہو جانے کی حسرت میں رہے

ہم نے صحرا ہو کہ گلشن ایک جیسا کر دیا

جس ٹھکانے بھی رہے زنجیر وحشت میں رہے

اب صلہ حسن عمل کا کیا ملا کیا جانیے

روشنی تھے ہم سو شعلے کی رفاقت میں رہے

خلوت جاں میں بڑی فرصت سے آ بیٹھا ہے غم

عرصۂ فرصت ملا تو ہم بھی فرصت میں رہے