کدورتوں کے درمیاں عداوتوں کے درمیاں
Pirzada Qasimکدورتوں کے درمیاں عداوتوں کے درمیاں
تمام دوست اجنبی ہیں دوستوں کے درمیاں
شعور عصر ڈھونڈھتا رہا ہے مجھ کو اور میں
مگن ہوں عہد رفتگاں کی عظمتوں کے درمیاں
یہ سوچتے ہیں کب تلک ضمیر کو بچائیں گے
اگر یوں ہی جیا کیے ضرورتوں کے درمیاں
ابھی شکست کیا کہ رزم آخری اک اور ہے
پکارتی ہے زندگی ہزیمتوں کے درمیاں
ضمیر عصر میں کبھی نوائے درد میں کبھی
سخن سرا تو میں بھی ہوں صداقتوں کے درمیاں