شکست دل میں بھی اک زندگی نظر آئی
Pirzada Qasimشکست دل میں بھی اک زندگی نظر آئی
دیا بجھا تو ہمیں روشنی نظر آئی
فراز دار پہ کوئی ہمیں نہ پہچانا
زمانے والوں کو خوش قامتی نظر آئی
سر دیار وفا دوستوں کے جھرمٹ میں
دریدہ جسم لیے دوستی نظر آئی
اب اور طرز سے نقارۂ خدا گونجے
زبان خلق تو خاموش ہی نظر آئی
وہ رکھ رکھاؤ نہ دیکھا دیے کے جلنے میں
جو اس کے بجھنے میں شائستگی نظر آئی