وہ ایک خواب جو دیکھا گیا تھا عجلت میں
Pirzada Qasimوہ ایک خواب جو دیکھا گیا تھا عجلت میں
اسی کا کرب سمیٹا ہے آج فرصت میں
یہ بات سچ ہے کہ بیگار تو نہیں یہ حیات
کہ ہم کو زخم تمنا ملے ہیں اجرت میں
زیاں یہی ہے کہ کچھ اور سوجھتا ہی نہیں
بس ایک دھیان میں رہتے ہیں لوگ شہرت میں
ہنر کہو کہ کرامت مگر یہی ہے کہ ہم
خوشی کو ڈھال بھی سکتے ہیں غم کی صورت میں
زمین جیتی ہے یا سرزمین دل اس نے
سوال تشنہ رہا جشن فتح و نصرت میں