نہ پوچھئے کہ کہا کیا ہے ان کہی کیا ہے
Pirzada Qasimنہ پوچھئے کہ کہا کیا ہے ان کہی کیا ہے
عذاب جھیل رہا ہوں سخنوری کیا ہے
عجب ہے ذوق تماشا کہ گھر جلا کر لوگ
یہ چاہتے ہیں سمجھنا کہ روشنی کیا ہے
پس نظر ہو اگر مقصد حیات تو پھر
یہ زیست وقت گزاری ہے زندگی کیا ہے
میں ملتجی ہوں نہ وہ ملتفت مگر پھر بھی
یہ ایک آگ دلوں میں لگی ہوئی کیا ہے
میں دل کے داغ دکھاؤں کہ زخم سر ان کو
جو پوچھتے ہیں کہ مفہوم دوستی کیا ہے