حجرۂ ذات سے باہر تو نکل کر دیکھو

Pirzada Qasim

حجرۂ ذات سے باہر تو نکل کر دیکھو

تم کسی دوسرے پیکر میں بھی ڈھل کر دیکھو

کیا عجب تم کو ہی یہ ہم سفری راس آ جائے

دو قدم ہی سہی تم ساتھ تو چل کر دیکھو

ہاں یہ دستار فضیلت بھی قبائے زر بھی

خود کو دیکھو تو یہ پوشاک بدل کر دیکھو

موسم ہجر کوئی رت ہے نہ کچھ آب و ہوا

اک تقاضا ہے کہ پھر گھر سے نکل کر دیکھو

مات ہو جائے مگر حوصلۂ دل کے لیے

آخری چال جو باقی ہے وہ چل کر دیکھو