میان کار دنیا ہم سے دل ناشاد کیا کرتے

Pirzada Qasim

میان کار دنیا ہم سے دل ناشاد کیا کرتے

ہمیں وہ یاد کب آیا اسے ہم یاد کیا کرتے

اگر پہچان اپنی اک دل ویران ہے تو پھر

وہ ہم کو شاد کیا اور ہم اسے آباد کیا کرتے

ہمیں جلدی بہت تھی عشق میں برباد ہونے کی

سو پیش و پس میں پڑ کے وقت کو برباد کیا کرتے

بھلا یہ آہ و زاری شعبدہ بازوں کے بس کی ہے

فغاں اعجاز ہوتی ہے فغاں ایجاد کیا کرتے

اگر ہم صرف ہو جاتے کہیں فریاد کی لے میں

تو بس لے کار ہو سکتے تھے ہم فریاد کیا کرتے