یہ حادثہ مجھے حیران کر گیا سر شام
Pirzada Qasimیہ حادثہ مجھے حیران کر گیا سر شام
جو زخم صبح ملا تھا وہ بھر گیا سر شام
ملے تھے ہم کہیں کار جہاں کے میلے میں
اسے بھی جلدی تھی اور میں بھی گھر گیا سر شام
یہ آج کس کو اچانک مرا خیال آیا
چراغ راہ میں یہ کون دھر گیا سر شام
خیال یار کی فرصت بھی اب کسے ہے نصیب
یہ پھول صبح کھلا اور بکھر گیا سر شام
تمام دن کی تھکن سے میں بجھ رہا تھا مگر
کسی کی یاد کا چہرہ نکھر گیا سر شام
شب فراق کا احوال یاد آ ہی گیا
پھر ایک تیر سا دل میں اتر گیا سر شام
یہ صبح و شام مرے اس قدر ہی میرے ہیں
کہ جی اٹھا ہوں سحر دم تو مر گیا سر شام