لمحہ لمحہ مرا ہر اک سے سوا جاگتا ہے
Pirzada Qasimلمحہ لمحہ مرا ہر اک سے سوا جاگتا ہے
میں الگ جاگتا ہوں درد جدا جاگتا ہے
بخت بھی سوتے ہیں اور گھر کے مکیں بھی لیکن
سرحد شب پہ کہیں ایک دیا جاگتا ہے
خواب ہو جانے سے پہلے کوئی حرف خوش کام
اسی امید پہ یہ ذہن رسا جاگتا ہے
ہم پہ ہی خاص ہیں کچھ اس کی عنایات سو اب
فتنہ اس شہر میں ہر روز نیا جاگتا ہے
اے مرے درد بتا حد سے گزرنا کب ہے
تو جو یوں جاگتا رہتا ہے تو کیا جاگتا ہے