Poetry
Poet
Meter
- ہے ساتھ عبادت کے عبا بھی تیریشامل ہے ریاضت میں ریا بھی تیریفرحت کانپوری
- اب آؤ سرود غم سنائیںسوتی ہوئی روح کو جگائیںہوش بلگرامی
- جاوداں غم عہد عشرت تیز پاجانے کیا ہے زندگی کا مدعاہوش بلگرامی
- سناؤں تمہیں زندگی کی کہانیغم جاودانی غم جاودانیہوش بلگرامی
- فکر ہستی ہے نہ احساس اجلیہ خرد ہے یا دماغوں کا خللہوش بلگرامی
- مآل کار نہ کچھ بھی ہوا تو کیا ہوگانہ ہم رہے نہ زمانہ رہا تو کیا ہوگاہوش بلگرامی
- مجھے یاد ہیں وہ دن جو تری بزم میں گزارےوہ جھکی جھکی نگاہیں وہ دبے دبے اشارےہوش بلگرامی
- محبت کی فطرت ہے یہ بے قراریکوئی کیا کرے گا مری غم گساریہوش بلگرامی
- میں نے اب سمجھا ہے راز کائناتکر رہا ہوں غم سے تعمیر حیاتہوش بلگرامی
- نہ کام فکر سے نکلا نہ چل سکی تدبیرکسی طرح سے نہ بدلی پھری ہوئی تقدیرہوش بلگرامی
- وہی صبح کا دھندھلکا وہی منزلیں وہی شبکوئی کیا سمجھ سکے گا غم زندگی کا مطلبہوش بلگرامی
- وہی میری نا مرادی وہی گردش زمانہمری زندگی تصور مری عشرتیں فسانہہوش بلگرامی
- ہوشؔ اس پر کسی کا بس نہ چلاوقت جب آ گیا تو پھر نہ ٹلاہوش بلگرامی
- برق نے جب بھی آنکھ کھولی ہےآشیانوں نے خاک رولی ہےIbn-e-Mufti
- پھر سے وہ لوٹ کر نہیں آیاپھر دعا میں اثر نہیں آیاIbn-e-Mufti
- دل وہی اشک بار رہتا ہےغم سے جو ہمکنار رہتا ہےIbn-e-Mufti
- شوق جب بھی بندگی کا رہنما ہوتا نہیںزندگی سے زندگی کا حق ادا ہوتا نہیںIbn-e-Mufti
- غلط فہمی کی سرحد پار کر کےمٹا دو فاصلے ایثار کر کےIbn-e-Mufti
- کر برا تو بھلا نہیں ہوتاکر بھلا تو برا نہیں ہوتاIbn-e-Mufti
- نفرتیں نہ عداوتیں باقی ہیںگر رہیں گی تو الفتیں باقیIbn-e-Mufti
- وہ خواب جیسا تھا گویا سراب لگتا تھاحسین ایسا کہ فخر گلاب لگتا تھاIbn-e-Mufti
- ہم سے ملتے تھے ستارے آپ کےپھر بھی کھو بیٹھے سہارے آپ کےIbn-e-Mufti
- اگر مکڑی دکھائی دےتو ڈرتی ہے مری بیٹیIbn-e-Mufti
- خدا کہتا ہے بندوں سےمجھے تم سے محبت ہےIbn-e-Mufti
- سفید اور سیاہ گوٹوں کے حسیں اک دائرے اندربہت ہی سرخ رنگت کی حسیں اک گوٹ ہوتی ہےIbn-e-Mufti
- ارے او بے مروت تو کہاں ہےتڑپتا ہجر میں یہ ناتواں ہےIbraheem Aajiz
- چاہئے پرہیز گردش چشم شوخ یار کوگھومنے سے جب زیاں ہے مردم بیمار کوIbraheem Aajiz
- حوصلے کیوں نہ دل چرخ کہن کے نکلےمثل یوسف نہ پھرے جو ہیں وطن کے نکلےIbraheem Aajiz
- زانو پر اس کے رات رہا سر تمام راتپیش نظر رہا رخ دلبر تمام راتIbraheem Aajiz
- سب کو الجھائے ہوئے ہے زلف پیچاں ان دنوںکون سنتا ہے مرا حال پریشاں ان دنوںIbraheem Aajiz
- مر کر بھی ہے تلاش مجھے کوئے یار کیمٹی خراب کیوں نہ ہو میرے غبار کیIbraheem Aajiz
- ناز ہے مشق جفا پر اس ستم ایجاد کوکب کرے گا شاد میری خاطر ناشاد کوIbraheem Aajiz
- نہ تنہا میں ہی دم بھرتا ہوں تیری آشنائی کاجہاں میں شور ہے اے شوخ تیری دلربائی کاIbraheem Aajiz
- واہ کیا خوب مہ لقا دیکھاجلوہ اس کا ہر ایک جا دیکھاIbraheem Aajiz
- وہ برق جلوہ دکھائے جمال اگر اپناتو اے کلیم کریں ہم نثار سر اپناIbraheem Aajiz
- ہوا پیری میں عشق اس نوجواں کاالٰہی مجھ میں زور آیا کہاں کاIbraheem Aajiz
- ہے عجب کچھ معاملہ دل کاکبھی نکلا نہ حوصلہ دل کاIbraheem Aajiz
- آدمی تھا کیا وہی اک کام کاارض پر جس کا کوئی مسکن نہ تھاJagdeesh Raj Figar
- اپنے ہی آس پاس ہوں میںخود جو اپنی اساس ہوں میںJagdeesh Raj Figar
- بالیقیں پیکر شباب ہے وہجس کی نظروں کا انتخاب ہے وہJagdeesh Raj Figar
- تپش سے بھاگ کر پیاسا گیا ہےسمندر کی طرف صحرا گیا ہےJagdeesh Raj Figar
- جو فقط رہتے ہوں دن کو بے قرارمہوشوں میں کیجئے ان کا شمارJagdeesh Raj Figar
- خاندانی قول کا تو پاس رکھرام ہے تو سامنے بن باس رکھJagdeesh Raj Figar
- ربط صحرا سے عرش کا دیکھابادلوں کا جو قافلہ دیکھاJagdeesh Raj Figar
- ظرف کہنہ گلا دیا جائےروپ اس کو نیا دیا جائےJagdeesh Raj Figar
- گگن سے دھرتی پہ آ گیا تھااجل کو اچھے سے جانتا تھاJagdeesh Raj Figar
- میں نے جب تب جدھر جدھر دیکھااپنی صورت کا ہی بشر دیکھاJagdeesh Raj Figar
- وہ آپ کے قریں ہے اسے دیکھنا نہیںوہ بھی تو مہ جبیں ہے اسے دیکھنا نہیںJagdeesh Raj Figar
- یہ ناداں ذہن ہے جو سوچتا ہےخلا میں کیا کہیں صوت و صدا ہےJagdeesh Raj Figar
- اس حسن بے نیاز کے کچھ مرتبے تھے اورمیری اداس راتوں کے بجھتے دیے تھے اورLaiq Aajiz