Poetry

Poet
Meter
  1. ہے ساتھ عبادت کے عبا بھی تیریشامل ہے ریاضت میں ریا بھی تیریفرحت کانپوری
  2. اب آؤ سرود غم سنائیںسوتی ہوئی روح کو جگائیںہوش بلگرامی
  3. جاوداں غم عہد عشرت تیز پاجانے کیا ہے زندگی کا مدعاہوش بلگرامی
  4. سناؤں تمہیں زندگی کی کہانیغم جاودانی غم جاودانیہوش بلگرامی
  5. فکر ہستی ہے نہ احساس اجلیہ خرد ہے یا دماغوں کا خللہوش بلگرامی
  6. مآل کار نہ کچھ بھی ہوا تو کیا ہوگانہ ہم رہے نہ زمانہ رہا تو کیا ہوگاہوش بلگرامی
  7. مجھے یاد ہیں وہ دن جو تری بزم میں گزارےوہ جھکی جھکی نگاہیں وہ دبے دبے اشارےہوش بلگرامی
  8. محبت کی فطرت ہے یہ بے قراریکوئی کیا کرے گا مری غم گساریہوش بلگرامی
  9. میں نے اب سمجھا ہے راز کائناتکر رہا ہوں غم سے تعمیر حیاتہوش بلگرامی
  10. نہ کام فکر سے نکلا نہ چل سکی تدبیرکسی طرح سے نہ بدلی پھری ہوئی تقدیرہوش بلگرامی
  11. وہی صبح کا دھندھلکا وہی منزلیں وہی شبکوئی کیا سمجھ سکے گا غم زندگی کا مطلبہوش بلگرامی
  12. وہی میری نا مرادی وہی گردش زمانہمری زندگی تصور مری عشرتیں فسانہہوش بلگرامی
  13. ہوشؔ اس پر کسی کا بس نہ چلاوقت جب آ گیا تو پھر نہ ٹلاہوش بلگرامی
  14. برق نے جب بھی آنکھ کھولی ہےآشیانوں نے خاک رولی ہےIbn-e-Mufti
  15. پھر سے وہ لوٹ کر نہیں آیاپھر دعا میں اثر نہیں آیاIbn-e-Mufti
  16. دل وہی اشک بار رہتا ہےغم سے جو ہمکنار رہتا ہےIbn-e-Mufti
  17. شوق جب بھی بندگی کا رہنما ہوتا نہیںزندگی سے زندگی کا حق ادا ہوتا نہیںIbn-e-Mufti
  18. غلط فہمی کی سرحد پار کر کےمٹا دو فاصلے ایثار کر کےIbn-e-Mufti
  19. کر برا تو بھلا نہیں ہوتاکر بھلا تو برا نہیں ہوتاIbn-e-Mufti
  20. نفرتیں نہ عداوتیں باقی ہیںگر رہیں گی تو الفتیں باقیIbn-e-Mufti
  21. وہ خواب جیسا تھا گویا سراب لگتا تھاحسین ایسا کہ فخر گلاب لگتا تھاIbn-e-Mufti
  22. ہم سے ملتے تھے ستارے آپ کےپھر بھی کھو بیٹھے سہارے آپ کےIbn-e-Mufti
  23. اگر مکڑی دکھائی دےتو ڈرتی ہے مری بیٹیIbn-e-Mufti
  24. خدا کہتا ہے بندوں سےمجھے تم سے محبت ہےIbn-e-Mufti
  25. سفید اور سیاہ گوٹوں کے حسیں اک دائرے اندربہت ہی سرخ رنگت کی حسیں اک گوٹ ہوتی ہےIbn-e-Mufti
  26. ارے او بے مروت تو کہاں ہےتڑپتا ہجر میں یہ ناتواں ہےIbraheem Aajiz
  27. چاہئے پرہیز گردش چشم شوخ یار کوگھومنے سے جب زیاں ہے مردم بیمار کوIbraheem Aajiz
  28. حوصلے کیوں نہ دل چرخ کہن کے نکلےمثل‌ یوسف نہ پھرے جو ہیں وطن کے نکلےIbraheem Aajiz
  29. زانو پر اس کے رات رہا سر تمام راتپیش نظر رہا رخ دلبر تمام راتIbraheem Aajiz
  30. سب کو الجھائے ہوئے ہے زلف پیچاں ان دنوںکون سنتا ہے مرا حال پریشاں ان دنوںIbraheem Aajiz
  31. مر کر بھی ہے تلاش مجھے کوئے یار کیمٹی خراب کیوں نہ ہو میرے غبار کیIbraheem Aajiz
  32. ناز ہے مشق جفا پر اس ستم ایجاد کوکب کرے گا شاد میری خاطر ناشاد کوIbraheem Aajiz
  33. نہ تنہا میں ہی دم بھرتا ہوں تیری آشنائی کاجہاں میں شور ہے اے شوخ تیری دلربائی کاIbraheem Aajiz
  34. واہ کیا خوب مہ لقا دیکھاجلوہ اس کا ہر ایک جا دیکھاIbraheem Aajiz
  35. وہ برق جلوہ دکھائے جمال اگر اپناتو اے کلیم کریں ہم نثار سر اپناIbraheem Aajiz
  36. ہوا پیری میں عشق اس نوجواں کاالٰہی مجھ میں زور آیا کہاں کاIbraheem Aajiz
  37. ہے عجب کچھ معاملہ دل کاکبھی نکلا نہ حوصلہ دل کاIbraheem Aajiz
  38. آدمی تھا کیا وہی اک کام کاارض پر جس کا کوئی مسکن نہ تھاJagdeesh Raj Figar
  39. اپنے ہی آس پاس ہوں میںخود جو اپنی اساس ہوں میںJagdeesh Raj Figar
  40. بالیقیں پیکر شباب ہے وہجس کی نظروں کا انتخاب ہے وہJagdeesh Raj Figar
  41. تپش سے بھاگ کر پیاسا گیا ہےسمندر کی طرف صحرا گیا ہےJagdeesh Raj Figar
  42. جو فقط رہتے ہوں دن کو بے قرارمہوشوں میں کیجئے ان کا شمارJagdeesh Raj Figar
  43. خاندانی قول کا تو پاس رکھرام ہے تو سامنے بن باس رکھJagdeesh Raj Figar
  44. ربط صحرا سے عرش کا دیکھابادلوں کا جو قافلہ دیکھاJagdeesh Raj Figar
  45. ظرف کہنہ گلا دیا جائےروپ اس کو نیا دیا جائےJagdeesh Raj Figar
  46. گگن سے دھرتی پہ آ گیا تھااجل کو اچھے سے جانتا تھاJagdeesh Raj Figar
  47. میں نے جب تب جدھر جدھر دیکھااپنی صورت کا ہی بشر دیکھاJagdeesh Raj Figar
  48. وہ آپ کے قریں ہے اسے دیکھنا نہیںوہ بھی تو مہ جبیں ہے اسے دیکھنا نہیںJagdeesh Raj Figar
  49. یہ ناداں ذہن ہے جو سوچتا ہےخلا میں کیا کہیں صوت و صدا ہےJagdeesh Raj Figar
  50. اس حسن بے نیاز کے کچھ مرتبے تھے اورمیری اداس راتوں کے بجھتے دیے تھے اورLaiq Aajiz