خاندانی قول کا تو پاس رکھ
Jagdeesh Raj Figarخاندانی قول کا تو پاس رکھ
رام ہے تو سامنے بن باس رکھ
آس کے گوہر بھی کچھ مل جائیں گے
یاس کے کچھ پتھروں کو پاس رکھ
تو امارت کے محل کا خواب چھوڑ
خواب میں بس جھونپڑی کا باس رکھ
محض تیری ذات تک محدود کیوں
موسموں کے کیف کا بھی پاس رکھ
دہر میں ماضی بھی تھا تیرا نہ بھول
آنے والے کل میں بھی وشواس رکھ
تجھ کو اپنے غم کا تو احساس ہو
اپنے پہلو میں دل حساس رکھ
دولت افلاس تجھ کو مل گئی
دولت کونین کی اب آس رکھ
مبتدی کو لوح سے ہے واسطہ
تو تو ہے اہل قلم قرطاس رکھ
بوستاں سب کو لگے تیرا وجود
اپنے تن میں اس لئے بو باس رکھ
یہ زماں ہے تیز رو گھوڑا نہیں
ہاتھ میں اپنے نہ اس کی راس رکھ
صاحب مقدور ہے مانا فگارؔ
یہ تجھے کس نے کہا تھا داس رکھ