ربط صحرا سے عرش کا دیکھا
Jagdeesh Raj Figarربط صحرا سے عرش کا دیکھا
بادلوں کا جو قافلہ دیکھا
کہکشاں کا وہ عکس ہی تو تھا
میں نے لہروں میں راستہ دیکھا
ڈالی ڈالی پہ بیٹھ کر میں نے
پھل چکھا اور ذائقہ دیکھا
چرخ کا پیرہن تو میلا تھا
دہر کا پیرہن نیا دیکھا
اتنا ہی قرب کا ہوا احساس
جتنا مابین فاصلہ دیکھا
جائزہ جب لیا بلندی کا
شیب سے اس کا واسطہ دیکھا
یوں لگا ہر جواں معمر ہے
اس کے ہاتھوں میں جو عصا دیکھا
وہ تو بگلے کا ہم نوا ہوگا
جس کو میں ٹانگ پر کھڑا دیکھا
بے کراں اس لئے ہوا ساگر
اس نے ساحل کو جو خفا دیکھا
کیا گگن ارض کی کشش میں تھا
اس کو جو خاک سے اٹا دیکھا
میر میداں کی تو ہے بات الگ
کیا مرا رن میں حوصلہ دیکھا
سر جدا تھا شریر سے جیسے
میں نے بس پیڑ کا تنا دیکھا
ہر طرح اس کا احترام کیا
جس کو اپنے سے کچھ بڑا دیکھا
تو تو میدان کا مکیں تھا فگارؔ
کب پہاڑوں کا سلسلہ دیکھا