ارے او بے مروت تو کہاں ہے

Ibraheem Aajiz

ارے او بے مروت تو کہاں ہے

تڑپتا ہجر میں یہ ناتواں ہے

مریض عشق کی تو لے خبر جلد

کہ وہ اب کوئی دم کا میہماں ہے

بتوں میں سنگ دل ہے کون تجھ سا

تری سنگیں دلی سب پر عیاں ہے

یہ سن کر حال میرا ہنس کے بولا

عیادت کی مجھے فرصت کہاں ہے

بتوں کو نرم دل دیکھا ہے کس نے

سنو سنگیں دلی وصف بتاں ہے

نہ آیا زندگانی میں جو وہ شوخ

کہ مرتا ہوں دم نزع رواں ہے

تو پھر وہ آ چکا میری لحد پر

یہی جب حال دور آسماں ہے

فنا ہے غیر حق کو عاجزؔ زار

بقا وصف خدائے دو جہاں ہے