وہ آپ کے قریں ہے اسے دیکھنا نہیں
Jagdeesh Raj Figarوہ آپ کے قریں ہے اسے دیکھنا نہیں
وہ بھی تو مہ جبیں ہے اسے دیکھنا نہیں
جس گھر میں جاگزیں ہے اسے دیکھنا نہیں
کس کس کا ہم نشیں ہے اسے دیکھنا نہیں
جو سطح پر ہے چیز اسے دیکھنا ہی کیا
جو چیز تہ نشیں ہے اسے دیکھنا نہیں
شاید ترے جمال کو سمت اک نئی ملے
تجھ سے بھی جو حسیں ہے اسے دیکھنا نہیں
دھرتی پہ رینگتے ہوئے دیکھے تو ہوں گے سانپ
جو مار آستیں ہے اسے دیکھنا نہیں
اوپر سے چاق و چست وہ لگتا ضرور ہے
اندر سے وہ حزیں ہے اسے دیکھنا نہیں
رقصاں تھی لب پہ اس کے وہ مسکان دیکھ لی
چیں سے جو پر جبیں ہے اسے دیکھنا نہیں
جو چل دیا کہیں تو اسے مل نہ پائے گا
وہ تو ابھی یہیں ہے اسے دیکھنا نہیں
مانا پسر کپوت ہے لخت جگر تو ہے
یہ سانس واپسیں ہے اسے دیکھنا نہیں
تیرے وجود کی جو کبھی ترجمان تھی
ہاں یہ وہ یاسمیں ہے اسے دیکھنا نہیں
جو خاک سے بنا ہے اسے دیکھتا ہے تو
جو جسم آتشیں ہے اسے دیکھنا نہیں