Poetry

Poet
Meter
  1. بندے کا پردہ شان الٰہی چھپی ہوئیخود کو تو چھوڑ خاک اڑایا تو کیا ہواYasin Ali Khan Markaz
  2. آتے رہتے ہیں فلک سے بھی اشارے کچھ نہ کچھبات کر لیتے ہیں ہم سے چاند تارے کچھ نہ کچھYasmeen Habeeb
  3. ابھی گزرے دنوں کی کچھ صدائیں شور کرتی ہیںدریچے بند رہنے دو، ہوائیں شور کرتی ہیںYasmeen Habeeb
  4. اک دل میں تھا اک سامنے دریا اسے کہناممکن تھا کہاں پار اترنا اسے کہناYasmeen Habeeb
  5. تمہارے وصل کا بس انتظار باقی ہےمیں رنگ رنگ ہوں لیکن سنگھار باقی ہےYasmeen Habeeb
  6. جنہیں نگاہ اٹھانے میں بھی زمانے لگےوہ جا بجا مری تصویر کیوں سجانے لگےYasmeen Habeeb
  7. جو چلا گیا سو چلا گیا جو ہے پاس اس کا خیال رکھجو لٹا دیا اسے بھول جا جو بچا ہے اس کو سنبھال رکھYasmeen Habeeb
  8. کسی کشش کے کسی سلسلے کا ہونا تھاہمیں بھی آخرش اک دائرے کا ہونا تھاYasmeen Habeeb
  9. کسی کے ساتھ کیا نسبت ہوئی تھیمیں اپنے آپ سے رخصت ہوئی تھیYasmeen Habeeb
  10. لمس تشنہ لبی سے گزری ہےرات کس جاں کنی سے گزری ہےYasmeen Habeeb
  11. مجھ کو اتار حرف میں جان غزل بنا مجھےمیری ہی بات مجھ سے کر میرا کہا سنا مجھےYasmeen Habeeb
  12. وقت بس رینگتا ہے عمر کے ساتھتارہ تارہ گنا ہے عمر کے ساتھYasmeen Habeeb
  13. وہ زخم پھر سے ہرا ہے نشاں نہ تھا جس کاہوئی ہے رات وہ بارش گماں نہ تھا جس کاYasmeen Habeeb
  14. یہ کمرہ اور یہ گرد و غبار اس کا ہےوہ جس نے آنا نہیں انتظار اس کا ہےYasmeen Habeeb
  15. پھرے ہیں دھن میں تری ہم ادھر ادھر تنہاتجھے تلاش کیا ہے نگر نگر تنہاZafar Akbarabadi
  16. تھی میرے دل کی پیاس تپش دشت کی نہ تھیبجھتی سمندروں سے یہ وہ تشنگی نہ تھیZafar Akbarabadi
  17. دنیا مزاج دان و مزاج آشنا نہ تھیدنیا کے پاس زہر بہت تھا دوا نہ تھیZafar Akbarabadi
  18. شریک حال جب ناکامیٔ تدبیر ہوتی ہےتو پھر وحشت اثر ہر خواب کی تعبیر ہوتی ہےZafar Akbarabadi
  19. کبھی اسے تو کبھی خود کو دیکھتے رہنااسی مدار میں دن رات گھومتے رہناZafar Akbarabadi
  20. کچھ ایسے جذبۂ تحقیر سے زمانہ ملاکہ اس سے اپنا یہ خوددار دل ذرا نہ ملاZafar Akbarabadi
  21. کسی کی پرشش غم بار ہو گئی ہوگیتمام دکھ ہمہ آزار ہو گئی ہوگیZafar Akbarabadi
  22. مائل بہ دوستی وہ کدھر ہے کدھر نہیںاللہ جانتا ہے مجھے کچھ خبر نہیںZafar Akbarabadi
  23. مجھے خدشہ ہے اپنی چشم تر سےکہیں پانی گزر جائے نہ سر سےZafar Akbarabadi
  24. ہر قدم پر اک نیا دکھ خیر خواہوں سے ملاکب ہمیں کوئی تحفظ ان پناہوں سے ملاZafar Akbarabadi
  25. ہزار صبح نے کرنوں کے جال پھیلائےمگر سمٹ نہ سکے رات کے گھنے سائےZafar Akbarabadi
  26. ہم اس کے دھیان میں آئیں گے دھیان میں بھی نہ تھایقیں کا ذکر تو کیا ہے گمان میں بھی نہ تھاZafar Akbarabadi
  27. ہے تو کوشش یہی دل دشت تمنا نہ بنےپھر بھی بنتا ہے جو ویرانہ تو ویرانہ بنےZafar Akbarabadi
  28. آپ کے شہر میں آنے والےیعنی خود جان سے جانے والےFaiz Tabassum Tonsvi
  29. بیگانۂ شعور وفا ہو گیا وہ شخصیہ کیا ہوا کہ مجھ سے خفا ہو گیا وہ شخصFaiz Tabassum Tonsvi
  30. حدیث زندگی سنتے رہے ہیںبڑی مدت سے سر دھنتے رہے ہیںFaiz Tabassum Tonsvi
  31. حدیث شوق کہیں یا کریں حیات کی باتہر ایک بات تری چشم التفات کی باتFaiz Tabassum Tonsvi
  32. حسن مجبور جفا ہے ہمیں معلوم نہ تھاعشق پابند وفا ہے ہمیں معلوم نہ تھاFaiz Tabassum Tonsvi
  33. کوچہ کوچہ گھوم کے دیکھا بات تو اتنی جانی ہےجتنا جتنا شہر بڑا ہے اتنی ہی ویرانی ہےFaiz Tabassum Tonsvi
  34. کھلا ہوا ترا چہرہ گلاب کا سا تھااور اس پہ نور کسی ماہتاب کا سا تھاFaiz Tabassum Tonsvi
  35. کیف و سرور قلب کے امکان ہی گئےدل کیا گیا حیات کے سامان ہی گئےFaiz Tabassum Tonsvi
  36. ممکن ہے پھر تلافئ مافات ہو نہ ہوآ جا کہ اس کے بعد کوئی بات ہو نہ ہوFaiz Tabassum Tonsvi
  37. موسم اچھا ہے رت سہانی ہےمیرے لب پر تری کہانی ہےFaiz Tabassum Tonsvi
  38. ہر طرف جلوۂ فروزاں ہےصحن ہستی میں اک چراغاں ہےFaiz Tabassum Tonsvi
  39. زندگی نام ہے تغیر کاگر تغیر نہ ہو تو زیست محالFaiz Tabassum Tonsvi
  40. آنکھوں میں بسے ہو تم آنکھوں میں عیاں ہو کردل ہی میں نہ رہ جاؤ آنکھوں سے نہاں ہو کرفرحت کانپوری
  41. اک خلش سی ہے مجھے تقدیر سےالاماں اس خار دامن گیر سےفرحت کانپوری
  42. ترا جلوہ شام و سحر دیکھتے ہیںسلیقے سے شمس و قمر دیکھتے ہیںفرحت کانپوری
  43. جو کچھ بھی ہے نظر میں سو وہم نمود ہےعالم تمام ایک طلسم وجود ہےفرحت کانپوری
  44. کچھ تو وفور شوق میں باعث امتیاز ہومیری نظر کے سامنے ان کی حریم ناز ہوفرحت کانپوری
  45. کوئی بھی ہم سفر نہیں ہوتادرد کیوں رات بھر نہیں ہوتافرحت کانپوری
  46. منہ بولا بول جگت کا ہے جو من میں رہے سو اپنا ہےیہ دل کا میٹھا میٹھا درد بھی گونگے کا سا سپنا ہےفرحت کانپوری
  47. میرا دل ناشاد جو ناشاد رہے گاعالم دل برباد کا برباد رہے گافرحت کانپوری
  48. وصل کے لمحے کہانی ہو گئےشب کے موتی صبح پانی ہو گئےفرحت کانپوری
  49. وہ بہکی نگاہیں کیا کہیے وہ مہکی جوانی کیا کہیےوہ کیف میں ڈوبے لمحوں کی اب رات سہانی کیا کہیےفرحت کانپوری
  50. انسان تو نقد جاں بھی کھو دیتا ہےممکن ہو تو اپنا نشاں دھو دیتا ہےفرحت کانپوری