ہوا پیری میں عشق اس نوجواں کا
Ibraheem Aajizہوا پیری میں عشق اس نوجواں کا
الٰہی مجھ میں زور آیا کہاں کا
پڑا سایہ جو اس سرو رواں کا
ملا رتبہ زمیں کو آسماں کا
ارادہ جب ہوا مجھ کو فغاں کا
دھواں بن کر اڑا رنگ آسماں کا
سمجھتے ہیں گدا قند مکرر
کلام اس خسرو شیریں دہاں کا
دل اپنا بچ نہیں سکتا نظر سے
نشانہ ہے وہ تیر بے کماں کا
بہت ڈھونڈھی کمر آخر نہ پائی
پتا ملتا کہیں ہے بے نشاں کا
پڑی مجنوں کے پاؤں میں جو زنجیر
اٹھانا ہی پڑا بار گراں کا
مٹا ہوں اے ہما ان کی طلب میں
تجسس چھوڑ میرے استخواں کا
سفر ہے آخرت کا پیش عاجزؔ
تجھے سامان لازم ہے وہاں کا