دل وہی اشک بار رہتا ہے
Ibn-e-Muftiدل وہی اشک بار رہتا ہے
غم سے جو ہمکنار رہتا ہے
میں نے دیکھا خرد کے کاندھوں پر
اک جنوں سا سوار رہتا ہے
لب تبسم میں ہو گئے مشاق
دل مگر سوگوار رہتا ہے
ایک لمحے بھی سوچ لوں ان کو
مدتوں اک خمار رہتا ہے
دل رہے بے کلی کے گھیرے میں
ذہن پہ تو سوار رہتا ہے
تیرے خوابوں کی لت لگی جب سے
رات کا انتظار رہتا ہے
سچ کے دھاگے سے جو بنے رشتہ
عمر بھر استوار رہتا ہے
تیرے دل نے بھی پڑھ لیا کلمہ
جس میں یہ گنہ گار رہتا ہے
جب سے جوڑا ہے آپ سے رشتہ
دامن تار، تار رہتا ہے
وہ تصور میں اک گھڑی آئیں
دیر تک دل بہار رہتا ہے
چاند سے اس لئے ہے پیار مجھے
یہ بھی یاروں کا یار رہتا ہے
گھر میں آتے ہی مہ جبیں نے کہا
یاں تو اختر شمار رہتا ہے
اب تو کر ڈالیے وفا اس کو
وہ جو وعدہ ادھار رہتا ہے
اک طرف گردشیں زمانے کی
اک طرف تیرا پیار رہتا ہے
ترے در سے جڑا ہوا مفلس
عشق میں مال دار رہتا ہے
ماں نے دے دی دعا تو حشر تلک
اس کا باندھا حصار رہتا ہے
دل میں سجدے کیا کرو مفتیؔ
اس میں پروردگار رہتا ہے