برق نے جب بھی آنکھ کھولی ہے

Ibn-e-Mufti

برق نے جب بھی آنکھ کھولی ہے

آشیانوں نے خاک رولی ہے

یاد کا کیا ہے آ گئی پھر سے

آنکھ کا کیا ہے پھر سے رو لی ہے

تم بچھا لو مصلیٔ چاہت

میں نے دہلیز دل کی دھو لی ہے

دل کی باتوں کو دل سمجھتا ہے

دل کی بولی عجیب بولی ہے

پردہ اٹھتے ہی میری نظروں سے

کائنات یقین ڈولی ہے

مسکرائے نہ چاند کیوں مفتیؔ

آئی جو چاندنی کی ڈولی ہے