اپنے ہی آس پاس ہوں میں
Jagdeesh Raj Figarاپنے ہی آس پاس ہوں میں
خود جو اپنی اساس ہوں میں
جو حقیقت سے بے خبر ہیں
نزد ان کے قیاس ہوں میں
انس و جاں کے لئے جہاں میں
ہے اگر وہ نواس ہوں میں
اس کے بننے میں منہمک ہوں
ہر بدن کا لباس ہوں میں
فکر اپنے شکم کی کیوں جب
ہر دہن کا گراس ہوں میں
تشنہ کامو ہوں ویسے سوتا
دشت وحشت میں پیاس ہوں میں
چاہے دارالامان میں ہوں
اس جگہ بھی ہراس ہوں میں
قرب حاصل ہے چاندنی کا
جسم سیمیں کی آس ہوں میں
باس پھولوں کی چند لمحے
اپنے تن ہی کی باس ہوں میں
دہر میں میں جہاں جہاں ہوں
انتی ہوں وکاس ہوں میں
جو ہے مرغوب ہر کسی کو
اک وہی تو ولاس ہوں میں