ظرف کہنہ گلا دیا جائے
Jagdeesh Raj Figarظرف کہنہ گلا دیا جائے
روپ اس کو نیا دیا جائے
اپنی اگنی میں وہ جلے نہ مزید
شمس کو یہ بتا دیا جائے
پوچھنا کیا ہے بوڑھے امبر سے
اس کے ید میں عصا دیا جائے
اپنی اپنی حدود ہی میں رہیں
بحر و بر کو بتا دیا جائے
ان سے پھولوں کو ایرکھا ہوگی
تتلیوں کو اڑا دیا جائے
سونا سونا ہے جو بھی صحن وہاں
پیڑ تن کا لگا دیا جائے
مہوشوں کی جو فصل لینی ہے
ارض پر مہ اگا دیا جائے
ارض کے واسطے یہ اچھا ہے
بیچ میں نبھ ہٹا دیا جائے
صبح ہو جب تو ماہتاب کو کیا
لوری دے کر سلا دیا جائے
ان کو لمحوں میں بانٹنا ہے ابھی
ساعتوں کو بڑھا دیا جائے
زندگی ہے اگر سراب فگارؔ
جگ کو صحرا بنا دیا جائے