مر کر بھی ہے تلاش مجھے کوئے یار کی

Ibraheem Aajiz

مر کر بھی ہے تلاش مجھے کوئے یار کی

مٹی خراب کیوں نہ ہو میرے غبار کی

وعدہ بھی کر کے آئے نہ اک شب وہ میرے گھر

چھٹکی نہ چاندنی قمر گلعذار کی

کچھ تار پیرہن سے نہیں امتیاز اب

حالت نہ پوچھئے مرے جسم نزار کی

آنا نہ تھا تو خط ہی کوئی آپ بھیجتے

تسکین کچھ تو ہوتی دل بے قرار کی

نرگس ہے شکل چشم تمنا بعینہ

لالہ بھی ہے شبیہ دل داغدار کی

گلدستہ پیش کیجئے لالہ کے پھولوں کا

سننی ہوں گالیاں جو کسی گلعذار کی

کیوں اس کے پیچھے ہوتی ہے حیران اے صبا

ملنے کی گرد بھی نہیں میرے غبار کی

وہ خاکسار تھے نہ ہوا سے ہوئی بلند

مرنے کے بعد خاک ہمارے مزار کی

وعدہ خلاف یار سے کہتا نہیں کوئی

طاقت نہیں رہی مجھے اب انتظار کی

دل کا اب آنکھوں سے یہ تقاضا ہے رات دن

تصویر سامنے رہے ہر دم نگار کی

غربت میں کیوں وطن کی تمنا نہ کیجئے

کیا کیا اذیتیں نہ سہیں دشت خار کی

یوسف عزیز مصر تھے حاصل تھی سلطنت

اس جاہ پر بھی چاہ تھی اپنے دیار کی

فرقت میں زندگانئئ شیریں ہے زہر آب

خواہش ہو خاک مجھ کو مے خوش گوار کی

عاجزؔ ہماری آنکھیں ترستی ہی رہ گئیں

نادیدوں کو نصیب رہی دید یار کی