چاہئے پرہیز گردش چشم شوخ یار کو

Ibraheem Aajiz

چاہئے پرہیز گردش چشم شوخ یار کو

گھومنے سے جب زیاں ہے مردم بیمار کو

ہوں مریض عشق ہے یہ درد میرا لا دوا

ہوگی صحت کیا مسیحا سے ترے بیمار کو

ناوک بے پر اگر ہے اس کی مژگان دراز

قوس کیوں سمجھے نہ عاشق ابروئے خم دار کو

میری ہی نفرت نے کی الفت رقیبوں سے سوا

وصل کی دولت میسر کیوں نہ ہو اغیار کو

شام غربت ہجر میں تو وصل میں صبح وطن

دیکھتا ہوں اپنے گھر میں سایۂ دیوار کو

کیا قیامت ہے درازیٔ شب یلدائے ہجر

روز محشر پر جو رکھا وعدۂ دیدار کو

ایک درہم کی اسے خواہش تو لاکھوں کی اسے

شکر مفلس سے زیادہ ہے کہیں زردار کو

نقد جاں دے کر زلیخا نے لیا سودائے عشق

حسن یوسف کی جو دیکھا گرمئ بازار کو

ابن آدم سے بھی چھینی عشق ہی نے سلطنت

کر دیا محتاج اسی نے مالک دینار کو

اس زمانے میں بڑی ہوتی ہے زرداروں کی قدر

پوچھتا ہے کون عاجزؔ مفلس نادار کو